دارالمدینہ کی خبریں

دارالمدینہ انٹرنیشنل اسلامک اسکول سسٹم کے تحت عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ میں میلاد اجتماع۔

 

Wednesday, 05 October, 2022

محافل ِ میلاد میں اللہ پاک کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں۔میلاد منانے والوں سے سرکار صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُوش ہوتے ہیں۔ دارالمدینہ ہیڈ آفس کے اسلامی بھائیوں، دارالمدینہ بوائز ہائی اسکول کے طلبہ ، ٹیچرز اور ان کے سرپرستوں کا اجتماع ِ میلاد دعوت ِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ میں منعقد ہوا ۔ اجتماع کا آغاز تلاوت ِ قرآنِ پاک سے ہوا۔بعد ازاں دارالمدینہ کے مختلف کیمپسزکے طلبہ نے نبی کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی بارگا ہ میں نعتوں کے نذرانے پیش کیے اوراردواورانگریزی میں بیانات کیے۔طلبہ نے جشن ِ ولادت سے متعلق مختلف چارٹس بھی ہاتھوںمیں اٹھارکھے تھے۔ میلاد اجتماع میں رکن شوریٰ اور نگران مجلس دارالمدینہ حاجی اطہر علی عطاری دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے بیان میں بتایا کہ آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے محبت کاتقاضاہے کہ ہماری کوئی نمازقضا نہیں ہونی چاہیے۔ ان دنوں دارالمدینہ نے خصوصی طوردرودپاک پڑھنے کی ترغیب دلائی ہے ، اب تک دارالمدینہ کے طلبہ اوراسٹاف50کروڑ درود پاک پڑھ چکے ہیں۔یہ عزم کیجیے کہ درودپاک نہ صرف ربیع الاول کے مبارک ماہ بلکہ زندگی کی آخری سانس تک پڑھتے رہنا ہے۔ رکن شوری نے طلبہ کوتربیت کے مدنی پھول عطافرماتے اُنہیں پانچوں وقت باجماعت مسجدمیں نمازاداکرنے، ماں، باپ، استاد،اورمرشدپاک کااحترام کرنے،بہن بھائیوں،پڑوسیوں اوررشتے داروں کااحترام کرنے ،روزانہ تلاوت قرآن کرنے، پڑھائی پر بھرپور توجہ دینے، صحت کاخیال رکھنے اور نظم وضبط پیدا کرنے کی تاکید کی انہوں نے دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے جڑے رہنے اور مدنی قافلوں کا مسافر بننے کی ترغیب بھی دلائی ۔ِ شرعی ایڈوائز ر دارالمدینہ مفتی کفیل رضا عطاری نے کہا کہ ہمیں سب سے زیادہ محبت نبی کریم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے ہونی چاہیے۔ ذکرِ رسول اوردُرود و سلام کی محفلیں سجانےسے ہمارا گھر بھی روشن ہوگا اور ہمارا اور ہمارے بچّوں کا مستقبل (دُنیا وآخرت)بھی روشن ہوگا ۔ ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ!انھوں نے نماز کی پابندی اوروالدین کی اطاعت پر زور دیا۔اجتماع میں والدین کی ایک تعدادبھی موجودتھی۔آخر میں تلاوت، نعت اور بیان کے مقابلوں میں ریجن سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ میں انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔